113

احتساب کی ہوا

احتساب کی ہوا.۔گرفتاریوں کے پیش نظرسائیں سرکارکی تیاریاں

دہشتگردوں کوفراراورکرپشن کے الزامات پرنکالاجانے والاافسرآئی جی جیل تعینات

اچھی شہرت کے حامل سینئرافسرمظفرعالم صدیقی کوآئی جیل کے عہدے سے ہٹادیاگیا

دہشتگردوں کوفرارکرانے کے الزامات والے افسرکوآئی جیل بناناسنگین غلطی ہوگی

کراچی(تجزیہ: کامران چوہان) کرپشن کے خلاف چلی ہوا نے جہاں کہیں بڑے بڑے سیاسی برج الٹ دیئے وہیں سیاسی حلقوں میں بے چینی عروج پر ہے ۔ سابق صدر آصف زرداری کے بعد کس کا نمبر ہے کہ بازگشت نے سندھ حکومت کی نیند حرام کردی ہے ۔ ممکنہ گرفتاری کے پیش نظر سائیں سرکار نے پیشگی تیاری شروع کردی ہے ۔ جس کے بعد ایک سال قبل کرپشن اور جیل سے دہشت گرد فرار کرانے کے الزامات کے تحت ہٹائے جانے والے منظورِنظر افسرکوپھرسے آئی جی جیل خانہ جات تعینات کردیاگیا ۔ سائیں سرکار کے ’’خاص ‘‘ سمجھے جانے والے افسر کو 2013ء میں چارسینئر افسروں کو بائی پاس کرکے آئی جی جیل خانہ جات سندھ مقررکیاگیا تھا اور موصوف اس پوسٹ پر مسلسل پانچ سال تک تعینات رہے ۔ واقفان حال کہتے کہ موصوف کے دور میں جیل کا نظام ایسا ہوگیا کہ ’’الامان الحفیظ‘‘ ۔ قیدی اپنی مرضی سے جیل آتے اور چلے جاتے تھے جیل قیدیوں کیلئے “پکنک اسپارٹ” سمجھاجاتا تھا جبکہ دوسری جانب کرپشن کا بازار بھی پورے آب و تاب پر تھا ۔ شور حد سے بڑھا اور کچھ خطرناک قیدیوں کی جیل سے فرار ہونے کے بعد انہیں عہدے سے ہٹایا گیا ان واقعات پر سندھ اسمبلی میں بھی بڑا شور شراباہوا جس کے بعد اچھی شہرت کے حامل محکمہ جیل کے سینئر ترین افسر مظفرعالم صدیقی کو آئی جیل خانہ جات سندھ تعینات کیاگیا ۔ مگر اچھے افسر اور سائیں سرکار میں نہ پہلے کبھی بنی ہے اور نہ ہی شاید کبھی بنے گی اسی لئے صرف 7 ماہ کے قلیل عرصے کے بعد انہیں عہدے سے ہٹاکر اپنے منظورِ نظر افسر کو ایک بار پھر آئی جی جیل خانہ جات تعینات کرکے’’خاص‘‘ ٹاسک سونپ دیاگیا ۔ مظفر عالم صدیقی کو ہٹائے جانے سے جیل عملے میں شدید مایوسی اورشدید بے چینی پائی جاتی ہے ۔ سیاسی جماعتیں بالخصوص سندھ اسمبلی کی اپوزیشن جماعتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جیل جیسے اہم اور حساس محکمے کی کمان بری شہرت کے حامل افسر کے سپرد کئے جانے پر خاموشی لمحہ فکریہ ہے ۔سندھ کے سنجیدہ حلقوں میں ان دنوں اچھی شہرت کے حامل سینئر افسر کی موجودگی کے باوجود کرپشن کے الزامات کی زد میں آئے ہوئے ایک جونئیر افسر کو جیل جیسے حساس محکمے کی سربراہی سونپنے کا متنازعہ فیصلہ زیربحث ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ سائیں سرکار کے اس متنازعہ فیصلے پر کون نعرہ مستانہ بلند کرتا ہے ۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں