79

او آئی سی اور نیا عالمی منظر نامہ

بادشاہ خان

دنیا کی دو بڑی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان کی بات سے کالم شروع کرنا چاہتا ہوں تاکہ قارئین کے سامنے حالیہ منظر نامہ واضح ہوسکے،جب نریندرمودی وزیراعظم بنا تو اس وقت آئی ایس آئی کے سابق چیف جنرل حمیدگل ؒ نے کہا تھاکہ:مودی پاکستان کے لئے تحفہ ہے،یہ دو قومی نظریے کو زندہ کرنے آیاہے،اور آج ہر پاکستانی ایک بار پھر بھارت سے ٹکراجانے کے لئے بیتاب ہیں۔اور دوسری بات تقریبا تین برس قبل فرانسیسی خفیہ ایجنسی ڈائیریکٹوریٹ جنرل آف ایکسٹرنل سیکورٹی145 کے سربراہ برنارڈ باجولٹ نے کہا تھاکہ ہم جس مشرقِ وسطیٰ سے واقف تھے وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوچکا۔ یہ الفاظ آج کے عالمی منظر نامے کی بھی تصویر کشی کرتی ہے
اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کا وزرائے خارجہ اجلاس متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی میں یکم مارچ سے جاری ہے ۔۔ یہ اجلاس تنظیم کے پچاس برس مکمل ہونے پر منعقد ہوا اس لحاظ سے ا س کی خاص اہمیت ہے ۔۔پاکستان کے علاوہ 56 اسلامی ممالک کی نمائندگی اجلاس میں موجود ہے ۔ پاکستان نے ابتدائی اجلاس میں احتجاجاشرکت سے اس لئے انکار کیا ہے کہ او آئی سی تنظیم کی جانب سے بھارتی وزیرخارجہ شسما سوراج کو خصوصی مہمان کے طورپر شرکت کی دعوت دی گئی ۔ بھارتی وزیرخارجہ اجلاس میں شریک ہوگئیں ۔بھارت نے او آئی سی میں بلانے پر متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور بنگلہ دیش کا شکریہ ادا کیا جبکہ ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کا نام لیے بغیر اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ کشمیریوں کا خون بہانے اور ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرنے والے بھارت نے او آئی سی میں دہشت گردی کا واویلا مچادیا۔ پاکستان کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے بھارت نے اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس میں شرکت سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور نام لیے بغیر پاکستان مخالف پروپگینڈے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔
پاکستانی احتجاج کو تنظیم کی قیادت نے کوئی اہمیت دی یا نہیں ؟؟ اس بابت اب تک کوئی خاص معلومات سامنے نہیں آئیں تاہم یہاں چند معلومات شئیر کرنا بے جا نہ ہوگا ۔۔جن سے ہمیں بخوبی سمجھ آجائے گا کہ پاکستان اور خوداو آئی سی اپنی ساکھ ،وقار اورحیثیت کھور ہا ہے ۔اوآئی سی اقوام متحدہ کے بعد دنیا کی سب سے بڑی حکومتی تنظیم ہے ۔پاکستان اسلامی تعاون تنظیم کے 27 بانی ممالک میں سے ایک ہے ۔
1984 تا 1988 تنظیم کی قیادت بھی پاکستان کے ہاتھ میں رہی ۔۔پاکستان کے شریف الدین پیرزادہ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل رہے اس طرح سے پاکستان کی حیثیت او آئی سی میں سعودی عرب کے قریب ہے ۔ پاکستان کے لئے دوسرے ممالک کے مقابلے میں اپنی بات منوانا نسبتاً آسان رہی ہے ۔تاہم یہ پہلا موقع ہے جب بھارت کے مقابلے میں پاکستانی موقف کو اہمیت نہیں دی گئی ۔بھارتی وزیرخارجہ کو عین ایسے وقت مدعو کیاگیا ہے جب پاک بھارت کے درمیان جنگ کی فضائیں قائم ہیں اور دونوں ممالک کی افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی ہیں جبکہ عوام بھی اپنی مسلح افواج کی کامرانی کے لئے دعائیں مانگ رہے ہیں ۔
او آئی سی میں اپنی شرکت کو یقینی بنانا بھارت کا ایک ادھورا خواب تھا۔۔ عرصہ دراز سے بھارت نے اس تنظیم میں شریک ہونے کے لئے کیا جتن کئے ہیں ۔مگربھارت کو مبصر کی حیثیت بھی نہیں دی گئی ہے حالانکہ اس کے مقابلے میں روس کو مبصر کی حیثیت حاصل ہے ۔بھارت اورفلپائن کانام رکنیت کی درخواست مسترد کئے جانے والے ممالک میں اب تک شامل ہے ۔۔
بھارت بنگلہ دیش ،سعودی عرب اورامارات کے ساتھ اپنے تعلقات کو برروئے کار لاکر او آئی سی کی سطح پر پاکستان کے خلاف محاذ کھولنے کے لئے سرگرم ہے۔ ایک طبقے کا خیال ہے کہ پاکستان کو او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کرنی چاہی تھی اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہی تھا، وغیرہ وغیرہ ، نہیں ایسا بلکل نہیں ہے ، او آئی سی عرب لیگ نہیں ہے کہ جس میں تیل سے مالا مال ممالک خود فیصلے کرینگے ،پاکستان او آئی سی کا بانی ممبر ہے اور اگر اس کی بات کو اہمیت نہیں دی جائے گئی ،تو پھر وہاں پاکستان کا موجود ہونا درست نہیں ،،کیونکہ او آئی سی نہ تو اقوام متحدہ کا فورم تھا اور نہ ہی عرب لیگ ، یہ اسلامی ممالک کا اتحاد ہے ،اور اس میں اجارہ داری نہیں، مسلم امہ کے مسائل اور حقوق کو اولیت دی جائے گی ، یہی اس کا منشور اور آئین ہے ،شام سے لیکر فلسطین تک مسلمان مظالم سے دوچار ہیں ،مظلوم کشمیری مسلمان ڈٹے ہوئے ہیں،شہادتوں اور قربانیوں کا سفر جاری ہے ،وہاں او آئی سی کا کردار کیوں نظر نہیں آتا ، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک قسم کی جنگ شروع ہے ،اس موقع پر ہندوستانی وزیر خارجہ کو دعوت دینا اور وہ بھی چند ممالک کی جانب سے؟ کیا پاکستان کی ممبرشپ اوآئی سی میں بے کار ہے؟ ، وقت آگیا ہے کہ علاقائی سطح پر اتحاد قائم کئے جائیں ، افغانستان کے ساتھ تعلقات میں قربت لائی جائے ، پاکستان انہیں ممالک کے ساتھ قربت اور کاروبار کو ترجیع دے جو اس کے ساتھ کھڑے ہوں ،
رہی بات پاک بھارت جنگی صورت حال کی توسنگین صورت حال سے ہندوستان بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکا ہے،بی جے پی کی جماعت کی ہندوتوا نظریے نے دو قومی نظریے کو ایندھن فراہم کرنے کا کام کردیا ہے ،وہ لوگ جو کہتے تھے کہ دو قومی نظریے کو بحربنگال میں ڈوبو دیا ہے ،پریشان ہیں،برصغیر کی جنگی ماحول میں ایک اور بات بھی تحریر کردوں ،: آر ایس ایس(راشٹریہ سیوک سنگھ)کے رہنماوں نے اپنے اعلانات سے ثابت کردیا ہے کہ ہندوستان میں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں، آج ہر پاکستانی ہندوستان سے لڑنے کو تیار ہے ، بس پاکستانی حکومت کو فیصلوں میں جلدی نہیں کرنی چاہی ہے، ابھنندن کی رہائی میں اتنی جلدی قوم کی سمجھ سے بالاتر ہے ،جنگ میں صبر اور جلد بازی کے بجائے قومی سطح پر فیصلوں کی ضرورت ہے ،اور اس میں سیاسی جماعتوں کو قومی مفاد کو مدنظر رکھنا ہوگا ، کیونکہ پاکستان ہے تو سیاسی جماعتیں ہونگی،
گی۔قوم قربانی دینے کے لئے تیار ہے ، فیصلے حکمرانوں کو کرنے ہیں ۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں