155

ایم کیو ایم پاکستان کی سیاسی قلابازی

تحریر : نوازش علی

گزشتہ روز ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے کراچی کے باغ جناح میں منعقدہ جلسے میں ایک بار پھر سندھ کی انتظامی بنیادوں پر تقسیم کا نعرہ لگا دیا پارٹی رہنمائوں کی جلسے میں کی جانے والی تقاریر کے متن نے سیاسی پنڈتوں کو بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا

سندھ میں کوٹہ سسٹم کے خاتمہ کی کوششوں کے بجائے پہلے مشرف اور بعد میں پپپلز پارٹی کے ساتھ ملکر وفاق و صوبے کی سطح پر اقتدار کے جھولے جھولنے کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ایک پھر کوٹہ سسٹم سے شہری سندھ کے عوام کو پہنچنے والے نقصانات پر روشنی ڈالتے ہوئے پپپلز پارٹی کو مخاطب ہو کر کہا کہ کوٹہ سسٹم کی وجہ سے سندھ تقسیم ہوا، سندھ کو تم نے پہلے تقسیم کیا ہم نے آج اعلان کیا ہے

جلسے میں جماعت کے ایک اور رہنما خواجہ اظہار الحسن نے تو حالیہ انتخابات میں شہر قائد میں اکثریت حاصل کرنے والی اپنی ہی اتحادی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جیت پر پھر سوال اٹھا دیئے ان کا کہنا تھا کہ جو جماعت کراچی سے تعلق نہیں رکھتی اسے یہاں سے منتخب کرادیا گیا، ایم کیوایم کی نشستیں کم کرنے والوں نے کرپشن کی راہ مزید ہموار کردیں برسوں تک پپپلز پارٹی کے منتخب کردہ وڈیروں اور جاگیرداروں کے شیر وشکر رہنے کے بعد جلسے میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ جاگیر داروں وڈیروں نے کئی دہائیوں سے سندھ تباہ کر رکھا ہے پیپلزپارٹی نے دیہی سندھ کے نام پر شہری سندھ کا حق کھایا ہے

جلسوں میں عوام کا لہو گرمانے والی تقاریر اپنی جگہ لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے ایم ایم پاکستان کی طرز سیاست سیاسی پنڈتوں کےلئے پہیلی بنی ہوئی ہے تقسیم در تقسیم کی شکار جماعت کئی دہائیوں کے بعد بھی اپنے منشور پر عملدرآمد نہ کرسکی ہے ہر بات پر صرف پیپلزپارٹی کو ذمہ دار ٹھہرانے والی جماعت شہری سندھ میں پیپلزپارٹی کی سیاسی حکمت عملی کو بہت پہلے سے اچھی طرح جانتی ہے لیکن پھر بھی ایم کیو ایم پاکستان کو عوامی مفاد عامہ کے مسائل اسی وقت یاد آتے ہیں جب وہ اقتدار سے باہر ہوتے ہیں عوامی خدمت کے بجائے شہر قائد کے متوسط طبقے کی نمائندگی کی دعوت دار جماعت کے صف اول کے رہنما کیسے موٹر سائیکلز سے پجارو تک پہنچے یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں

اللہ شہر قائد کا حامی و ناصر ہو

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں