94

بات نکلی ہے تو دور تلک جائے گی آغا سراج درانی کی گرفتاری آغاز

تجزیہ(کامران چوہان)

ہمارے معاشرے کا اک عجب وطیرہ رہا ہے کہ سیاسی جماعتیں احتساب کے نعرے تو ضرور لگاتی ہیں مگرجب جب احتسابی عمل شروع ہوا تو اسے انتقامی سیاست اورجمہوریت کے خلاف سازش سے تعبیر کیا گیا۔ اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو گذشتہ روز نیب نے اسلام آباد سے آمدن سے زائد اثاثے رکھنے پر گرفتار کرکے انہیں کراچی منتقل کیا گیا۔ نیب کی ٹیم نے سراج درانی کے گھر پر چھاپہ بھی ماراجس کی خبر سنتے ہی ”باس“ نے آرڈر دیا اور صوبائی وزراءکی پوری ”پلٹن “آغا کے گھر آپہنچی مگر رینجرز نے سندھ حکومت کے کرتے دھرتوں کو نیب کے سرچ آپریشن کے دوران گھر میں گھسنے سے منع کردیا۔ خوب واویلا ہواجس کے بعد اقتدارکی کرسیوں پر براجمان اہم شخصیات گیٹ پر ہی احتجاجاً دھرنے پر بیٹھ گئے ۔ یہ سارا منظر ٹی وی کی اسکرین پرہم سمیت سب نے دیکھا ۔ اب بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں کی باڈی لینگویج اور ان کی باتیں آپس میں میچ نہیں کھا رہی ہیں ۔ اس گرفتاری نے یقیناً پی پی پی کے حلقوں میں کھلبلی مچادی ہے کیونکہ پارٹی کے دوراندیش لیڈروں نے صورتحال کو اچھے سے بھانپ لیاہے کہ یہ ایک سیریز کا آغاز ہے اور اب سلسلہ وار اس کے ”ایپی سوڈ“آتے رہیں گے۔ حالات وواقعات سے یہی دکھائی دے رہا ہے کہ اسپیکر کے بعد اگلی باری اس سے اوپر والی کرسی والے کی ہوگی یہ سلسلہ نہیں رکے گا اور ”کنگ میکر“کا بھی اس سے بچنا محال دکھائی دیتاہے۔پیپلزپارٹی کی لیڈرشپ نے صورتحال کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ کارڈکے بعد مولانا کا کندھا بھی قریب کرلیا ہے ۔ پہلے پہل سندھ کارڈکھیلا جائے گا پلان بی کے طور پر مولاناکے ”مارچ“ سے فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔اس گمبھیر صورتحال سے نمٹنے کیلئے مسلم لیگ(ن)سے بھی بیک ڈور رابطوں کا آغاز کردیاگیاہے ۔ اسپیکر سندھ اسمبلی آغاسراج درانی کی گرفتاری پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے پریس کانفرنس میں سراج درانی کے گھر پر چھاپے کے دوران چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرنے اور بدتمیزی سمیت دیگر الزامات عائد کئے جواکثر وبیشتر اس قسم کے چھاپوں کے بعد لگائے جاتے ہیں – پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے بے بسی کا بھی اظہارکیا اور کافی حد تک محتاط بھی رہے ۔مختصر یہ کہ ابھی تک پی پی پی ” ویٹ اینڈواچ“کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔آئندہ دو سے تین دن میں پیپلزپارٹی سارے معروضی حالات اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کے بعد اپنا لائحہ عمل بنائے گئی کیونکہ اب بات کسی فرد واحد سے آگے نکل چکی ہے ۔۔!

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں