185

دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل

بادشاہ خان

اس وقت تقریبا تین ہزار کے قریب پاکستانی کرغزستان میں موجود ہیں،جس میں چھبیس سو طلبا ہیں،جو یہاں کے مختلف میڈیکل کالجز میں اور کچھ انجئینرنگ کالجز میں زیر تعلیم ہیں،ان کے علاوہ چار سو کے لگ بھگ پاکستانی کاروبار کے سلسلے میں یہاں ہیں، دو پاکستانیوں کی فیکٹریاں بھی ہیں،ایک صاحب فیبریکٹ چھتیں بناتے ہیں،دوسرے پاکستانی کی اسٹیل مل ہے،اور کئی پاکستانی یہاں گاڑیوں کی امپورٹ کا کام کررہے ہیں،اور کچھ جاپان سے اسپئیرپارٹس لارہے ہیں،اس کے علاوہ کچھ پاکستانی یہاں ریسٹورنٹس کے کاروبار سے منسلک ہیں،اور کچھ دیگر کاروبار کررہے ہیں،کرغزستان میں کئی پاکستانیوں سے ملاقات ہوئی،اور خوشی ہوئی کہ وہ سلسلہ تعلیم و روزگار کے لئے اس خطے میں موجود ہیں،انھیں ملاقاتوں ایک ملاقات پاکستانی ایکسپورٹر ارشد بٹ سے ہوئی موصوف سیالکوٹ سے تعلق رکھتے ہیں،تقریبا بائیس سالوں سے یہاں مقیم ہیں، ان کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں کے لئے اس ریجن کام کے بہت مواقع ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ کچھ مسائل بھی ہیں جن کا حل کرنا ضروری ہے،ارشد بٹ نے بتایا کہ ہم جب چین اور افغانستان کے بزنس ویزوں کے لئے اپلائی کرتے ہیں تو ویزہ نہیں ملتا، جس کی وجہ سے کئی بار کارگو سمیت ہمارے کئی آرڈرکینسل ہوجاتے ہیں،اور اس سے مارکیٹ میں برے اثرات پڑتے ہیں،اور ساکھ متاثر ہوتی ہے، حکومت پاکستان بالخصوص وزارت خارجہ کو اس بارے میں چین اور افغانستان سے بات کرے،تاکہ پاکستانی تاجروں کے مسائل کم ہوں، کرغزستان کے لوگ پاکستان سے محبت کرتے ہیں،، جب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کرغزستان دورے پر آئے تھے، کرغزستان میں مقیم پاکستانیوں سے ملاقات کی، اس سے دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں کا حوصلہ بڑھتا ہے، کارگو کے حوالے سے کام کرنے والے یوسف خان نے بتایا کہ پاکستان سے براہ راستہ طورخم کارگو میں پہلے بہت مسائل تھے، ریٹ مہنگے تھے، اب کرایے کم ہوگے ہیں، طورخم پر چوبیس گھنٹے کسٹم کا اعلان ہوا ہے، اس کے شروع ہونے سے سفر تیز ہوگا، اور پاکستان ان ممالک کو پھل سبزیاں بھی فراہم کرسکے گا،
دورہ کرغزستان کے دوران پاکستانیوں سے ملاقاتوں کے علاوہ پاکستانی سفارت خانے جانا ہوا وہاں موجود تھرڈ سیکرٹری طارق علی نے استقبال کیا اور سفیر پاکستان فیصل نیاز ترمذی سے ملاقات ہوئی،فیصل نیاز ترمذی گذشتہ سال ستمبر سے کرغزستان میں بطور سفیر تعینات ہیں،، انتہائی فعال ہیں،سفارتی حلقوں میں اچھی پہچان کی وجہ سے پاکستان کا مثبت امیج بڑھ رہا ہے،فیصل نیاز ترمذی نے بتایا، کرغزستان بڑا خوب صورت ملک ہے، کرغزستان کا کلچر پاکستان کے شمالی علاقہ جات چترال اور گلگت سے مشابہ ہے،ہمارے ان کے ساتھ بہت قریبی ثقافتی اور تاریخی روابط ہیں،بہت کم لوگ جانتے ہیں،اور میں لوگوں کو بتاتا ہو کہ ابومنصور سبگتیگین جوکہ محمود غزنوی کے والد تھے، وہ شمال سے آئے تھے،یہاں ایسک کول کے جنوب میں ان کا گاوں ہے، ان کا تعلق اوشو سے تھا،ان کے علاوہ ظہیر الدین بابر کرغزستان سے تھا ہمارا تعلق آج سے نہیں تاریخی تعلق ہے جیسے ہم نے بھولادیاتھا، لیکن جب یہ ریاست آزاد ہوئی تو پاکستان پہلا ملک تھا جس نے انھیں تسلیم کیا،اور یہاں سفارت خانہ کھولا تھا،اور پاکستانی نیشنل بنک پہلا غیر ملکی بنک تھا،جو یہاں آیا، اس کے علاوہ شروع دن سے یہاں پاکستانی اسٹوڈنٹس حصول تعلیم کے لئے یہاں آرہے ہیں،اور اس کے ساتھ تجارت بھی ہورہی ہے، شروع میں تجارت زیادہ تھی اب کچھ برسوں سے کم ہوگئی ہے، یہاں سے چارٹرڈ فلائٹس پاکستان جاتی تھی، اس وقت تجارت کا حجم کم ہے تقریبا پانچ ملین ڈالر ہے، اور ہماری کوشش ہے کہ اسے کم از کم دوسو ملین ڈالر تک لیکر جائیں، تجارت کے بہت سے مواقع موجود ہیں، اور پاکستانی سفارت خانہ ان سب کے معاملات اور مسائل کو دیکھ رہاہے،طلبہ کے حوالے سے کہاکہ یہاں یونیورسٹیز تو بہت ہیں، مگر معیاری یونیورسٹیز کم ہیں،اس حوالے سے ہم نے پی ایم ڈی سی کو لکھا ہے، حکومت پاکستان کو بھی لکھا ہے،کہ تھوڑا سا اسے اسٹریم لائن کیا جائے،ہم چاہتے ہیں کہ جنرل طلبہ یہاں آئیں،تاکہ اچھا سسٹم بنے،یہاں طلبہ کے کچھ مسائل سامنے آئے تھے جس پر ہم نے ملاقاتیں کی یہاں کے اعلی حکام سے اور اللہ کا شکر ہے کہ اب حالات بہتر ہوگئے ہیں، پاکستانیوں کو درپیش مسائل پر بات کرتے ہوئے کہاکہ،تیسرا مسئلہ یہاں چند پاکستان جیل میں ہیں، تقریبا آٹھ نو پاکستانی جیل میں ہیں،ان میں سے ایک پر قتل کا مقدمہ ہے باقی فراڈکے مقدمات میں گرفتار ہیں،بدقسمتی سے ان میں تین ایسے ہیں کہ جن کے ساتھ فراڈ ہواہے،اور بے چارے اب تک جیل میں ہیں،اور ان کا کیس میں سامنے لایا،ہمارے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی صاحب نے اس کی نشاندہی کی،وزیر اعظم عمران خان نے اس پر کرغزستان کے صدر کے ساتھ بات کی، وہ ایک کیس ایسا ہے کہ طول پکڑرہا ہے،اس کیس کی ہر پیشی پر میں جاتا ہوں،طارق علی جاتے ہیں، ان افراد کوکینیڈا کے ویزے کالالچ دیا گیا تھا۔
ٰٓایک اہم مسئلہ پاکستان کرغزستان کے مابین براہ راست پروازیں نہ ہونا بھی ہے،پاکستان اورکرغزستان کے درمیان براہ راست پروازوں سے تجارات کو فروغ مل سکتا ہے، پاکستانی سرمایہ کاروں کو فضائی آپریشن کے سیکٹرمیں سرمایہ کاری کرنی ہوگی،کرغزستان کی ایک انجی ائیرلائن کمپنی براہ راست پروازیں شروع کرنے کے لئے تیار ہے، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ انھیں پاکستان سے کوئی پارٹنر ملے جو آپریشن و دیگر معاملات ان سے ساتھ پارٹنرشپ اور جوائنٹ وینچر میں کام کرے،، براہ راست پروازیں شروع ہونے سے اس خطے میں پاکستانیوں کے لئے نئی راہیں کھولیں گی،کرغزستان کی اپنی آبادی تو پچاس سے ساٹھ لاکھ ہے، اور اس وقت ادویات،چاول کینو وغیرہ آرہا ہے، پاکستانی ایکسپورٹ دوسو ملین ڈالر تک جاسکتی ہے، اس کی بنیادی وجہ کرغزستان خطے کے اہم تنظیم یورایشین کا ممبر ہے،جس کے دیگر ممبران میں روس، قازقستان،بیلاروس،آرمینیااور آذربئیجان ہیں، یہ تقریبا 184ملین افراد کی مارکیٹ ہے،ان ممالک میں سے کسی بھی ایک ملک میں آپ کے مال کا کسٹم ہوجائے تو آپ بغیر کسٹم کے دیگر ممالک میں مال سپلائی کرسکتے ہیں،دوسرے معنوں میں اس پوری مارکیٹ میں ان ممالک میں اپنا مال بیچ سکتے ہیں،کرغزستان کو پورے یورایشین مارکیٹ میں ایکسپورٹ کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے، خود کرغز حکومت بھی چاہتی ہے،کہ پاکستانی یہاں سرمایہ کاری کریں،گذشتہ ماہ جب وزیر اعظم پاکستان یہاں تشریف لائے تھے، تو کرغز صدر نے آفر کی تھی،کہ آئیں اپنے انوسٹر کو کرغزستان میں بھجیں،یہاں ہوٹللنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کریں، ان سے ہم بہت کچھ لیں سکتے، یہاں جانوروں کی کھالیں بہت اچھی تعداد میں لے سکتے ہیں،دودھ گوشت اور شہد لے سکتے ہیں اور اسے ری ایکسپورٹ کرسکتے ہیں،یہاں کے کھانے کی مصنوعات بہت اعلی درجے کی اور کیمیکل سے پاک خالص خوراک ہے،،ان کے ساتھ تجارتی وفود کے ساتھ ساتھ ثقافتی وفود کے آنے جانے سے بہت کچھ ہوسکتا ہے،کرغزفنون لطیفہ سے محبت کرنے والی قوم ہے، ایک سوال بہت اہم ہے کہ خدارا ان ممالک کو کاروبار کے لئے استعمال کیا جائے نہ کہ ہومین اسمگلنگ کے لئے، اور ہومین اسمگلنگ روکنے کے لئے حکومت پاکستان کو سخت اقدامات کرنے ہونگے،لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ پاکستان سے آنے والے ان ممالک کے لئے پاکستانیوں کو تنگ کیا جائے، مکمل چھان بین ضروری ہے، اس کے ساتھ ساتھ ان ممالک میں پاکستان کی اعلی معیاری اشیاء کو ایکسپورٹ کرنا ہوگا،تاکہ پاکستان کا مثبت چہرہ سامنے آسکے اور مارکیٹ میں اچھی پہچان بن جائے ،اس سے پاکستان ترقی بھی کرے گا، اور روابط بھی بڑھیں گئے۔۔۔۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں