131

سراج درانی کے گھر چھاپے کے دوران نیب اہلکار بچوں کے سامنے سگریٹ پیتے رہے, مراد علی شاہ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ نیب اہلکاروں نے جب آغا سراج درانی کے گھر پر چھاپہ مارا تو ان کے گھر میں کوئی مرد موجود نہیں تھا، نیب والوں نے پوچھنے پر ملازمین کو زدو کوب کیا، آغا سراج کے گھر کی خواتین سے نازیبا سلوک کیا گیا، نیب اہلکار بچوں کے سامنے سگریٹ پیتے رہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ نیب والوں نے آغا سراج درانی کے گھر والوں سے کہا کہ کاغذات پر دستخط کریں ورنہ ہم یہاں سے نہیں جائیں گے، نیب اہلکار اسپیکر کے گھر سے کیا کچھ لےگئے ہمیں نہیں پتا، لگتاہے چیئرمین کی اطلاع کے بغیر گھر پر چھاپہ مارا گیا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے سندھ اسمبلی بلڈنگ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ مشیر اطلاعات سندھ مرتضیٰ وہاب و دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

آغا سراج درانی پر یہ لوگ الزامات لگاتے جارہے ہیں ،سراج درانی پرالزامات تھےتب بھی انکےگھرپرچھاپانہیں مارناچاہیےتھا، پنجاب کے ایک وزیر کو گرفتار کیا گیا تو ان کے گھر چھاپا نہیں مارا گیا، انہیں بلاکر گرفتار کیا گیا اور آغا سراج درانی کو ہوٹل سےگرفتار کیا، جب انہیں گرفتار کرلیا تو گھر پر چھاپے کی کیا ضرورت تھی؟ نیب کی ٹیم نےآغاسراج درانی کےگھر پر دھاوا بولا ،نیب والے آغا سراج درانی کے گھر دیواریں پھلانگ کر اور دروازہ توڑ کر داخل ہوئے، سراج درانی کےگھرپرخواتین تھیں،ان کوگھرسےنکال دیاگیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارےوزراسراج درانی کےگھرپہنچےتونیب حکام سےتفصیلات معلوم کیں،آغا سراج درانی کے اہلخانہ کو گھر سے نکال کر لان میں کھڑا کیا گیا تھا، جب ہمیں پتا چلا تو وزرا آغا سراج درانی کے گھر گئے ۔ انھوں نے بتایا کہ افسوس ہے وزیراعلی ہوتے ہوئے اسپیکر،انکےاہلخانہ کونیب کی دہشتگردی سےنہ بچاسکا اور اسپیکر سندھ اسمبلی کی فیملی کونیب کی دہشتگردی سےبچانہ سکے،اانھوں نے بتایا کہ سراج درانی کی فیملی سےزبردستی کاغذات پردستخط لیےگئے،کوئی قانون نیب کواس طرح کی کارروائی کی اجازت نہیں دیتا،نیب اہلکار صوفوں پر بیٹھے سگریٹ پیتے رہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ نیب حکام نےکہاکہ دستخط نہ کیےتوگھرسےنہیں جائیں گے،معلوم نہیں کہ کن کاغذات پردستخط لیےگئے،کورٹ میں پتاچلےگا۔ انھوں نے بتایا کہ ایک نیب اہلکار نے خاتوں کے منہ پر سگریٹ کا دھواں بھی پھینکا۔ انھوں نے بتایا کہ اسپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری اورخواتین سےنازیباسلوک پراحتجاج کیاجائےگا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آغا سراج کی گرفتاری کے بعد قائم مقام اسپیکر نے کل اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا ہے، اس میں ہم ان کے گھر والوں سے نازیبا سلوک پر احتجاج کریں گے، ہم اپوزیشن سے بھی رابطے میں ہیں، چاہتے ہیں اسمبلی میں ہم سب مشترکہ احتجاج کریں، امید ہے اپوزیشن ساتھ دے گی۔ انھوں نے بتایا کہ سراج درانی کی بیٹی سےزبردستی کاغذات پردستخط لیےگئے۔ کل سندھ اسمبلی کا اجلاس بلا لیا ہے ،نیب سے درخواست ہے کہ سراج درانی کو سندھ اسمبلی اجلاس میں جانے دے ۔ انھوں نے بتایا کہ نیب کے ملازمین نے انسانیت سے گری ہوئی حرکت کی ،قائم مقام اسپیکر نے سراج درانی کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے ہیں ، اسپیکر کے گھر سے کیا کچھ لے گئے ہمیں نہیں پتا لیکن ہم الزامات کا سامنا کریں گے۔ انھوں نے بتایا کہ چیرمین نیب کو سب سے پہلے اپنا گھر درست کرنا چاہیے،ہم اسپیکر کی گرفتاری اورانکے اہلخانہ سے بدتمیزی پر احتجاج کرینگے۔
انھوں نے بتایا کہ شرجیل میمن پر بھی الزامات ثابت نہیں ہوئے اور جیل میں ہیں،میں سندھ کاانچارج ہوں،یہاں کوئی غلط کام نہیں ہونےدونگا۔ انھوں نے نیب سے سوالیہ انداز میں پوچھتے بتایا کہ آغاسراج درانی کوگرفتارکرلیاتوانکےگھرپرچھاپےکی ضرورت کیاتھی؟پنجاب کےوزیر کوبھی آمدن سےزائداثاثوں کےالزام میں گرفتارکیاگیا،پنجاب کےوزیر کےگھرپرتوکوئی چھاپانہیں ماراگیا۔ انھوں نے کہا کہ نیب اپنی کارروائیوں میں دوہرامعیارکیوں اپنارہاہے،سندھ پرالزامات لگائےجاتےہیں،ہم ماحول خراب نہیں کرناچاہتے۔ انھوں نے بتایا کہ ہم اپوزیشن جماعتوں سےرابطےمیں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ آئی جی کے لیے طریقہ کارکی پابندی کرناہوگی، جب چاہوں ایڈیشنل آئی جی کو تبدیل کردوں جوکہ پوری اسمبلی کی بات ہے۔ انھوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ آئی جی جاب کی تفصیل پرپورےنہ اترےتوانکوبھی تبدیل کرناپڑےگا۔ انھوں نے بتایا کہ آغاسراج کی فیملی فیصلہ کرے گی کہ مقدمہ کرنا ہے یانہیں، اپوزیشن جماعتوں سے درخواست ہے کہ وہ ہمارا ساتھ دیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ہم احتساب سےنہیں ڈرتے بلکہ پیپلزپارٹی 1980کی دہائی سےاحتساب کاسامناکررہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ آئی جی کی تبدیلی کاایک قانونی طریقہ کارہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ ہم سندھ کارڈ نہیں پاکستان کارڈ کےحامی ہیں،چیئرمین نیب اپنےملازمین کےرویےکانوٹس لیں،کسی بھی اسمبلی کےاسپیکرکےساتھ ایساہوتاتب بھی یہی مؤقف ہوتا۔ انھوں نے بتایا کہ گورنر سندھ کااپناکردارہے،وہ آئینی کرداراداکرتےرہیں گے،عمران اسماعیل گورنرسندھ رہیں گے،گورنر راج کی باتیں درست نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اسپیکرآئینی عہدہ ہوتاہے،انکااہم کردارہوتاہے، آغاسراج درانی کوکبھی نوٹس یاطلب نہیں کیاگیاتھا،جوحالات ہیں سب یہی کہتےہیں کہ کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ ایک اور سوال پر بتایا کہ علیم خان نےبطوروزیراستعفادیاوہ انکی مرضی تھی۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں