133

سندھ میں میٹرک کے امتحانات

میٹرک کے امتحانات کا آغاز سندھ میں ہوچکا ہے ، اور اسی ماہ انٹر کے امتحانات بھی ہونگے ، کئیعلاقوں کے اسکولوں میں کھلے عام نقل کی شکایتیں آرہی ہیں ، سوشل میڈیا پر تصاویر آپ نے بھی دیکھی ہونگی ، پڑھ لکھا طبقہ اور نقل سے ہونے والی تباہی سے آگاہ افراد پریشانی سے دوچار ہیں ،تین دہائیوں سے ایک مخصوص طبقے نے صوبے بھر میں نقل مافیا کو سیاسی بنیاد پر پروان چڑھایا، جس کی وجہ سے قابلیت ختم ہوکر رہے گئی ہے،صرف ڈگریاں اور سرٹیفکیٹ کا حصول جاری ہے ، جس سے معاشرے میں احساس محرومی کا فروغ تیزی سے جاری ہے ، پہلے اس کا نشانہ و مراکز سرکاری اسکول اور کالج تھے ، اب تو بہت سے نجی اسکول اور کالج بھی اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں،سرکاری عملہ خاموشی سے اس میں ملوث ہے،اور اپنا حصہ وصول کرنے میں مصروف ہے،تعلیم معاشرے کی ترقی کے سفر میں بنیادی اور اہم سیڑھی کی حییثت رکھتی ہے،اور جدید دنیا میں اس کے ذریعے پیمانے و اندازے لگائے جاتے ہیں ، ہر ملک میں اس پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔کیونکہ علم وفن ہی ملک کی ترقی کا راز ہے۔ ہمارے ہاں اس پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے ،دینی علوم سے دور ہونے کے بعد اب دنیاوی فنون میں بھی انحطاط وزوال پذیری کی طرف تیزی سے گامزن ہیں۔دنیا اس شعبے پر اربوں ڈالرز خرچ کررہی ہے ، اور ہماری ترجیعات کچھ اور ہیں۔جس کی وجہ سے محکمہ تعلیم بحران کا شکار ہے۔جس سے پیپلز پارٹی کی تعلیمی پالیسی کی ناکامی واضع ہے ۔عوام جہاں مہنگائی سے پریشان ہیں اب سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی نااہلی نے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے ان کوخوفزدہ کر دیا ہے ،انتہائی افسوس کے ساتھ تحریر کر رہا ہوں کہ ملک کے دوسرے صوبوں کے مقابلے میں سندھ کا تعلیمی نظام سب سے کمزور ثابت اور کرپشن کا شکار ہے جس کی وجہ سے نقل مافیا،اور نجی اسکولوں کی مافیا اور ہر روز نئے اسکینڈل عام ہوتے جارہے ہیں ، نقل مافیا پر کوئی ہاتھ ڈالنے کو تیار نہیں ، ہر کوئی اپنی حیثیت کے مطابق حصہ ڈال اور وصول کررہا ہے ،
پاکستان میں تحقیق و مشاہدے کے حوالے سے کام کرنے والے تھنک ٹینک پروف پاکستان نے تعلیمی صورت حال کو انتہائی غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے تعلیم کی صورتحال پر سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق اگرچہ ملک میں سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد میں کچھ کمی آئی ہے تاہم اب بھی چھ سے 16 سال کی عمر کے 20 فیصد بچے سکول نہیں جا رہے ، جس کی وجہ نجی تعلیم کا مہنگا ہونا اور سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور وزارت تعلیم کی عدم دلچسپی بھی ہے ،اور اس پر نقل مافیا ، سرکاری اسکولوں میں گھوسٹ اساتذہ کی بھر مار نے نظام تعلیم کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے،
کرپشن انتہائی شرمناک حد تک تعلیمی اداروں سرایت کرچکی ہے ، پرائیویٹ اداروں میں تو اب نئے نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں ،سندھ میں تو محکمہ تعلیم میں عجب کرپشن ہے اس کی ایک مثال دینا چاہتا ہوں ہمارے ایک دوست عمیر شاہدجن کا نجی اسکول ہے نے بتایا کہ صرف میٹرک بورڈکراچی میں ہر کام کے ریٹ مقرر ہیں، داخلے سے لیکرپیپرز ہر مسئلے کے حل کیلے ایجنٹ موجود ہیں۔ اگر ایجنٹ کے بغیر کام کرانا ہو تو کئی دن لگ سکتے ہیں۔امتحانات کے شروع ہونے سے قبل پریکٹیکلز ہوتے ہیں اور اکثر نجی اسکولوں میں پریکٹیکلیز نہیں کروائے جاتے جس سے کرپشن کا راستہ کھولتا ہے ۔اس کے بعد باری آتی ہے اگر امتحانی سینٹر اپنے اسکول میں بنوانا ہو اس کے بھی بورڈ میں ریٹ مقرر ہیں جتنے زیادہ طلباء کا سینٹر ہوگا اتنا ریٹ زیادہ ہوگا،اس پر ایک اور افسوس کا مقام اگر کسی اسکول کو اپنا امتحانی مرکز پسند نہ آئے تو وہ اپنا سینٹر دوسرے اسکول میں تبدیل کراسکتے ہیں اس کے بھی ریٹ مقرر ہیں۔ اس کے علاوہ جس دن پیپر ہو اسی دن شام کو اگر امتحانی کاپی حاصل کرنی ہو اور نقل سے بھرنی ہو تو اس کا انتظام موجود ہے جس میں نجی تعلیمی ادارے اور بورڈ کا عملہ ملوث ہے۔اس کے علاوہ اگر ڈائریکٹ لسٹ میں نمبر بڑھوانے ہو تو فی پرچہ کا ریٹ مقر ر ہے،جو امتحان سے قبل اور رزلٹ کے بعدبھی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی بار ہم نے پہلی بار گلشن حدید اور مقامی سطح پر چند نجی اسکولوں کی تنظیم قیام کی ہے جس کے اولین ترجیعات میں نقل کو روکنا ہے اور (SAY NO TO CHEATING ) کو فروغ دینا ہے تاکہ یہ نقل قبیح فعل طلباء میں ختم ہوسکے ،ہماری کوشش ہیں کہ سینٹر وہاں بنے جہاں نقل کروانے والے مافیا کو آزادی حاصل نہ ہو اور طلباء محنت کرکے گریڈ حاصل کریں،یہ انکشافات جو کہ اب انکشافات نہیں ہیں ، کیاحکومت سندھ اس سے غافل ہے؟۔ اس وقت سندھ حکومت کا اولین فرض نظام تعلیم کو درست کرنا لازمی ضرورت بنتا ہے ، اس پر مکمل توجہ کی ضرورت ہے ،سرکاری تعلیمی اداروں کی خراب صورت کو بہتر کرنا جس سے صوبے کی غریب عوام کا مستقبل منسلک ہے، اس پر توجہ اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی اور نجی تعلیمی اداروں کو چیک اینڈ بیلنس کے دائرے میں لانا وقت اور صوبے کی بنیادی ضرورت ہے۔
نقل کے خلاف آگاہی مہم اچھی کوشش ہے ،SAY NO TO CHEATING کا سلوگن سامنے آرہاہے ، اس مہم میں لوگ تیزی سے شامل ہورہے ہیں،اور اس حوالے سے آوازیں بلند ہورہی ہیں، سرکاری تعلیمی ادارے میں موجود کالی بھیڑوں کو نکل باہر کرنے کا وقت آگیا ہے تاکہ صوبے میں ایک نیا اور ریفارمز شدہ تعلیمی نظام سامنے آسکے جس میں نقل مافیا کے لئے کوئی جگہ نہ ہو۔رشوت کے ذریعے پاس ہونے، بھرتی ہونے کو روکنا،اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانا صرف چند سخت فیصلے کافی ہیں ۔ ،این جی اوز کے بجائے حکومت خود اس بے یارومدگار ادارے پر توجہ دے، پڑھے لکھے اور اچھے منتظیمین کو سامنے لائے ۔ان کو سیاسی دباو سے آزاد رکھا جائے، تاکہ قوم کے مستقبل کو تعلیمی نعروں سے حقیقت کی طرف لایا جاسکے اب وقت سوچنے کا نہیں ، عمل کرنے کا ہے ،اور سب سے اہم کہ ان پرائیویٹ اور سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب تعلیم کو یکساں اور غلطیوں سے پاک کرنا اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ چیک اینڈ بیلنس قائم کرنا، دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جن میں برابری کے بنیاد پر یکساں مواقع فراہم کئے جاتے ہوں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں