111

سندھ کابینہ کا اجلاس سندھ سیکریٹریٹ کی نیو بلڈنگ میں منعقد

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں آج سندھ کابینہ کا اجلاس سندھ سیکریٹریٹ کی نیو بلڈنگ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ، تمام صوبائی وزراء ، مشیر، معاون خصوصی اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

سندھ کابینہ نے ای او بی آئی کے بورڈ آف ٹرسٹیز اور آکیوپیشنل سیفٹی اور ہیلتھ کونسل کے قیام کی منظوری دے دی۔

سندھ کابینہ نے خواتین کے لئے سیف ہائوسز کے قیام کی بھی منظوری دی، یہ سیف ہائوسز پر ضلع میں قائم کئے جائیں گے۔

اروڑ یونیورسٹی آف آرٹ، آرکیٹیکچر، ڈیزائن اور ہیریٹیج سکھر بل 2008 کابینہ میں پیش کیا گیا اور کابینہ نے بل منظور کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی بھیجنے کی ہدایت کی۔

کابینہ نے کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کی اصولی منظوری دیدی۔ کابینہ نے ایک کمیٹی قائم کردی جو بل کو درست کر کے اسمبلی بھیجے گی، کمیٹی ممبران میں وزیر بلدیات، وزیر صحت اور میئر کراچی کو نامزد کیا گیا۔

سندھ کابینہ نے سندھ گورنمنٹ چلڈرین اسپتال نیو کراچی کا بجٹ جاری کرنے پر غور کیا گیا۔ یہ اسپتال پاورٹی ایجوکیشن انیشیٹو (پی ای آئی) چلا رہا ہے۔ پی ای آئی کو 439.8 ملین روپے بھی جاری کئے گئے ہیں۔

سندھ کابینہ اجلاس میں سندھ کے ڈاکٹروں کی تنخواہیں پنجاب کے ڈاکٹروں کے برابر کرنے پر غور کیا گیا اور سروس اسٹرکچر تھری ٹائرز فارمولا کرنے پر غور کیا گیا۔ تمام الائونسز دیگر صوبوں خاص طور پر پنجاب کے برابر کرنے پر غور کیا گیا۔ دس ہزار روپے ماہوار پوسٹ گریجوئٹ کو اضافی دیا جائے گا اور ہائوس افسران کواضافی 15000 روپے ماہانہ دیئے جائیں گے ۔

سندھ کابینہ میں نیب کی طرف سے مختلف کمیٹیز کی روشنی میں لینڈ روینیو ایکٹ 1976 میں کچھ ترمیم پر غورکیا گیا۔ یہ ترمیم سیکشن 52 لینڈ اکیوسیشن ایکٹ 1894 کے سیکشن 3 اور سیکشن 23 (2) میں، سیکشن 3 (سی) کی تجاویز ہیں۔ کابینہ نے ترامیم منظور کر لیں اور اسمبلی کی جانب ارسال کردیں۔

سندھ کابینہ نے کشمیر میں بڑھتے ہوئے مظالم کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی اور بھارت کے جنگی جنون کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔

سندھ کابینہ نے کشمیر میں بڑھتے ہوئے مظالم اور بھارت کے جنگی جنون پر وزیراعلیٰ سندھ کو بریف کیا گیا۔

اجلاس کو کے فور پروجیکٹ پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری بلدیات خالد حیدر شاہ اور وزیر بلدیات سعید غنی نے بتایا کہ کے فور پروجیکٹ 25.551 بلین روپے کا تھا اور اس کے 50 فیصد فنڈز سندھ اور 50 فیصد فنڈز وفاقی حکومت کو دینے تھے، اب کے فور کے مزید کام سامنے آئے ہیں جو کرنے ہیں ان کاموں میں 50 میگاواٹ کا پاور پلانٹ، کچھ روٹس میں تبدیلیاں وغیرہ شامل ہیں۔

چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم نے بتایا کہ وفاقی حکومت بھی چاہ رہی ہے کہ نیسپاک کے فور منصوبے کے ڈزائن پر نظرثانی کرے۔

سندھ کابینہ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت کہ ’’سندھ حکومت کراچی کو اصلی ماسٹر پلان کے تحت بحال کرے‘‘ پر تبادلہ خیال کیا گیا اور تفصیلی غور کرنے کے بعد ایک کمیٹی بنا ئی جس میں وزیر بلدیات، وزیر ٹرانسپورٹ اور وزیر ثقافت شامل ہیں۔

سندھ کابینہ میں جونئر اسکول ٹیچرز پی بی ایس 14 اور ارلی چائلڈ ہوڈ ٹیچرز پی بی ایس 15 کی بھرتیوں کے معیار پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اسکول ایجوکیشن کی جانب سے دی گئی درخواست منظور کی گئی جس میں نئی بھرتیوں کے لئے امیدواروں کے پاسنگ مارکس 60 فیصد سے کم کر کے 50 فیصدکیے گئے۔ 2017ء کی بھرتی پالیسی پر بھی نظرثانی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں یہ فیصلہ اسکولوں کو بہتر انداز میں فعال کرنے کے پیش نظر کیا گیا۔

سندھ کابینہ نے کمشنر میرپورخاص اور کمشنر شہید بینظیرآباد کو سندھ کچی آبادی اتھارٹی کا ممبر بنانے کی منظوری دیدی۔

کابینہ اجلاس میں تھر کول فیلڈ کیلئے ایل بی او ڈی واٹر سپلائی اسکیم نصیرآباد کے لئے نیسپاک کی خدمات لینے پر غورکیا گیا۔ سیکریٹری آبپاشی نے بتایا کہ ایل بی او ڈی کے پانی کا معیار بہت زیادہ خراب ہے اور اس پانی کو الٹرا فلٹریشن ممبرین سسٹم کے ذریعے ٹریٹ کیا جائے۔

صوبائی وزیر امتیاز شیخ نے بتایا کہ پانچ شگرملز کا پانی ایل بی او ڈی میں جاتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ میں نے شگرملز والوں سے بات کی وہ اگلے کرشنگ سیزن سے پہلے اپنے ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ایل بی او ڈی کا 35 کیوسک پانی تھر پہنچایا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ16 میٹرک ٹن کول ہر سال نکالا جائے گا جس سے بجلی پیدا کی جائے گی۔ کابینہ اجلاس میں نیسپاک کو تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کیلئے یہ اسٹڈی دینے کی منظوری دی گئی۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں