88

سندھ ہائی کورٹ نے حکومت کو قانون سازی کے لیے 21 مئی تک مہلت دے دی۔

سندھ ہائی کورٹ نے سندھ حکومت کو پولیس اصلاحات پر قانون سازی کے لیے 21 مئی تک کا وقت دے دیا۔

سندھ ہائی کورٹ میں عدالتی فیصلے کے مطابق سندھ پولیس میں اصلاحات نہ کرنے کے معاملے پر دو وزراء اور چیف سیکریٹری سندھ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کے روبرو کہا کہ پولیس آرڈر 2002ء کی بحالی کا بل سندھ اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سندھ اسمبلی میں کیا ہو رہا ہے؟ وہاں صرف ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے کی بحث ہوتی ہے، 3 ماہ ہوگئے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں ہو رہا،کون ہے جو رکاوٹ بن رہا ہے؟

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے جواب دیا کہ امید ہے کہ جلد اسمبلی سے بل پاس ہو جائے گا، تھوڑا وقت دیا جائے۔

عدالت نے کہا کہ اخبارات میں چھپ رہا ہے کہ اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق نہیں ہو رہا۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے استدعا کی کہ آپ موقع دیں، جلد بل پاس ہوجائے گا۔

عدالت نے حکومت کو قانون سازی کے لیے 21 مئی تک مہلت دے دی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی یقین دہانی پر یقین نہیں، ان کی بد نیتی واضح ہو چکی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل کا مزید کہنا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی آئی جی سندھ بھی نہیں کر سکتے، سابق آئی جی اے ڈی خواجہ بھی 3 بار پولیس رولز بنا کر سندھ حکومت کو بھیج چکے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی ہے کہ سندھ حکومت پولیس افسران کے تقرر، تبادلے اور ترقیوں کے لیے من پسند قانون چاہتی ہے، کابینہ کمیٹی کے ارکان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کر کے انہیں سزا دی جائے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں