454

ماحولیاتی تبدیلیاں

بادشاہ خان

دنیا کے درجہ حرارت میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے اور اس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں خود انسان ہے ، اور انسانوں میں بھی جدید ترقی یافتہ ممالک کا کردار ہے ، جدیت کے عادی معاشروں کے ضروریات نے کرہ ارض کے درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ کردیا ہے ، اور اس کی روک تھام اور آگاہی اب اہم عالمی مسئلہ بن چکا ہے ،انسانی نسل کیلئے سب سے بڑا خطرہ کوئی اور نہیں بلکہ ماحولیاتی تبدیلی ہے اور ہزاروں برسوں سے انسان کو یہی اصل خطرہ لاحق ہے ؂،اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ماحولیاتی تبدیلی کو زندگی و موت کا مسئلہ قرار دیا ہے ،پولینڈ کے شہر کاٹے ویٹسا میں ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں ممبران نے معاہدے کی منظوری دے دی ہے

جس کے نتیجے میں 2015 کے پیرس ماحولیاتی معاہدے پر سال 2020 میں عمل شروع کر دیا جائے گا۔اسی حوالے سے دسمبر کے آخری عشرے میں دنیا بھر کے ممالک کا طویل اجلاس ہوا، جس میں کئی اہم فیصلے کئے گئے ،سی او پی 24 کے نام سے منعقد ہونے والے اس اجلاس کے چئیرمین میخال کرٹائکا نے کہا کہ ‘پیرس معاہدے پر عمل درآمد کے پروگرام کو پایہ تکمیل پر لانا ہماری بڑی ذمہ داری ہے ۔ یہ بہت طویل سفر تھا اور ہم نے اپنی پوری کوشش کی ہے کہ کسی کو پیچھے نہ چھوڑیں۔’اس معاہدے کے تحت غریب ممالک کے لیے قوانین میں نرمی ہوگی اور ترقی پذیر ممالک نے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے نقصانات کے اذالے کے لیے تلافی کا مطالبہ کیا تھا۔لیکن امیر ممالک اس بات سے انکاری تھے کہ انھیں ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ہونے والے نقصان کے اذالے کے لیے معاوضہ دینا پڑے ۔اس اجلاس میں 196 ممالک کی جانب سے نمائندوں نے شرکت کی جہاں ان کی توجہ پیرس معاہدے کے حوالے سے تھی تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ تمام ممالک کس طرح کاربن کے اخراج کو کم کر سکیں، غریب ممالک کو مالی امداد کیسے دی جائے اور اس بات کو کیسے یقینی بنایا جائے کہ ہر ملک اپنے وعدے پر پوری طرح عمل کرے

دیگر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات سے نقصان بڑھتا جا رہا ہے ۔ورلڈ بینک نے اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے دنیا کے مختلف ملکوں کی مدد کیلئے 200 ارب ڈالرز مختص کرنے کا اعلان کیا ہے پولینڈ کے شہر کیٹووائس میں منعقدہ ماحولیاتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈیوڈ ایٹن برو کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی کو نہ روکا گیا تو کئی انسانی تہذیبیں تباہ و برباد ہو جائیں گی اور دنیا کا بیشتر حصہ ختم ہو جائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ 2015ء میں پیرس کے اجلاس کے بعد ماحولیات کے موضوع پر یہ ہونے والا یہ اہم ترین اجلاس تھا ۔ اجلاس میں سر ڈیوڈ ایٹن برو کو نمایاں ترین شخصیات اور اہم ترین ماہرین تعلیم کے ساتھ نشست دی گئی تھی، سر ڈیوڈ ایٹن برو کا کہنا تھا کہ فی الوقت ہم عالمی سطح پر انسان کے اپنے ہی پیدا کردہ تباہ کن حالات کا سامنا کر رہے ہیں

ہزاروں برسوں سے انسانیت کو صرف ایک ہی خطرے کا سامنا رہا ہے : ماحولیاتی تبدیلی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے اقدامات نہ کیے تو تہذیبیں تباہ ہو جائیں گی اور کرۂ ارض کے افق پر بیشتر فطری دنیا ناپید ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کئی لوگ پہلے ہی یہ بات کہہ چکے ہیں اور ان کا پیغام واضح ہے ، وقت ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے ، فیصلہ ساز چاہتے ہیں کہ آپ فوراً اقدامات شروع کریں۔ تقریب سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس کا کہنا تھا ،کہ کئی ملکوں کیلئے ماحولیاتی تبدیلی زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال دیکھا جائے تو دنیا اس مقام سے بہت دور ہے جہاں اسے اصل میں ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس موقع ہے کہ زندگی کے جہاز کو درست سمت میں موڑا جائے اور اس سلسلے میں آئندہ سال بھی اہم اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں آئندہ اقدامات کا لائحہ عمل طے کریں گے ۔ اسی دوران، ورلڈ بینک نے آئندہ پانچ سال کیلئے 200? ارب ڈالرز کے فنڈز کا اعلان کیا ہے جو ماحولیاتی تبدیلی اور بگاڑ کو روکنے کیلئے دنیا کے مختلف ملکوں کی مدد کی جائے گی۔ دریں اثناء ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) سے مسلسل انکاری ہیں اور اپنے انہیں اقدامات کی وجہ سے وہ ماحولیاتی تبدیلی اور بگاڑ کو روکنے کیلئے کیے جانے والے اقدامات کو نقصان پہنچا رہے ہیں

حکومت، اور میڈیا کے ذمہ داری ہے کہ وہ سر پر منڈلاتے خطرات کی پیش بندی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔اس مقصد کے لیے معاشرے ہر مقامی آبادی میں لوگوں کو شعور و آگاہی دینا منظم کرنا ، ضروری سہولیات اور معاونت فراہم کرنا ،تاکہ تیزی سے بڑھتی ماحولیاتی تبدیلیوں کی روک تھام ہوسکے،ورنہ زمین پر انسان کا رہنا مشکل ہوجائے گا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں