203

نشوا کے مجرم کون؟

شہریار شوکت

24 اپریل کو سوشل میڈیا کی طاقت کی بظاہر ایک اور جیت ہوتی ہے،کراچی میں موجود دارلصحت اسپتال کو بند کردیا جاتا ہے۔کچھ لوگ اسے ننھی نشوا کی جیت کہتے ہیں تو کچھ کا کہنا یہ ہے کہ یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔دوسری جانب کراچی کے ہی ایک اور اسپتال میں ایک معصوم بیٹی کی عصمت تار تار کرنے کے بعد اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا لیکن تاحال سوشل میڈیا کی طاقت یا انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندے اس معاملے میں فتح کے جھنڈے نہ بلند کرسکے۔دارلصحت اسپتال میں زیر علاج ننھی نشوا کی موت غلط انجیکشن لگانے کی وجہ سے ہوئی اس واقعے کا ذمہ دار اسپتال کے دو افراد کو ٹھرایا گیا اور انہیں پولیس کی حراست میں لے لیا گیا۔بعد ازاں میڈیا نے اس واقعے کو اس طرح سے پیش کیا کہ تحقیقات مکمل ہونے سے قبل ہی اسپتال کے دیگر عملے کو بھی گرفتار کرنے کا عمل شروع کرلیا گیا۔ملک بھر میں ایک ایسی فضا بنا دی گئی جس کے بعد سندھ حکومت کو بھی اس معاملے میں دخل دینا ہی پڑا اور اسپتال کو سیل کرنے کا حکم جاری کردیا گیا۔اسپتال مالکان کیخلاف بھی واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے سے قبل ہی ایف آئی آر درج کردی گئیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا نشوا کے معاملے پر کسی کو کوئی ایکشن نہیں لینا چاہیے تھا؟سوال یہ ہے کہ جن افراد کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے آج ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک چھن گئی ہے ان کو چھوڑ دینا چاہیے؟اور سوال یہ بھی ہے کہ کیا نشوا کے معاملے پر دارلصحت اسپتال کو بند کردینا چاہیے؟یقنی طور پر ملک کا ہر شہری حکومت کی ذمہ داری ہے اس کی جان مال اس کے بچے سب کی حفاظت حکومت وقت کی ذمہ داری ہیں۔نشوا ایک کیس نہیں ملک میں ایسے کئی کیس رونما ہوتے ہیں اور اس کا سب سے بڑا ذمہ دار ہمار نظام ہے۔بچہ اسکول میں داخل ہوتا ہے تو والدین ایسے اسکول کا انتخاب کرتے جس کا امتحانی مرکز ماضی میں ایسے اسکولوں میں ڈلتا ہو جہاں نقل کی بھرپور اجازت ہو۔ڈپلومہ کے امتحانات کا جائزہ لیجئے تو معلوم ہوگا کہ پاکستان بھر میں ڈپلومہ ہولڈرز کی اکثریت سرٹیفیکیٹ نقل کر کے حاصل کرتے ہیں جس کی بنیا د پر انہیں ملازمت ملتی ہے اور پھر وہ فیلڈ میں رہ کر کام سیکھتے ہیں۔اگر یہ نظام چلتا رہا تو ایسا تو ہوتا رہے گا سب سے پہلے ہمیں اپنے اس نظام کو بدلنا ہوگا تا کہ جو لوگ فیلڈ میں آئیں وہ اپنے شعبے میں مہارت کے حامل ہوں بس ان کی اہلیت ایک کاغذ کے ٹکڑے تک محدود نہ ہو۔جو لوگ نشوا کے معاملے میں ذمہ دار ہیں انہیں کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے یہ ہمارا اخلاقی فریضہ ہے لیکن اس واقعے کی آڑ میں ملک بھر میں پیرا میڈیکل اسٹاف اور ڈاکٹر حضرات کو ہراساں نہ کیا جائے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ڈاکٹر حضرات اور پیرا میڈیکل اسٹاف اس حد تک ڈر جائیں کہ وہ خراب حالت والے مریضوں کا علاج کرنے سے ہی انکار کردیں اور ہر سنجیدہ حالت والے مریض کے متعلق یہ کہہ دیں کہ اس کا علاج ہمارے پاس نہیں کسی اور اسپتال لے جائیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ دارلصحت اسپتال ایک لائسنس یافتہ اسپتال ہے قانون کے تحت تحقیقات مکمل ہونے سے قبل اسے سیل کرنا درست نہیں۔کئی افراد جو دارلصحت کے ملازمین ہیں ان کا روزگار اس اسپتال سے جڑا ہے۔کئی افراد جو میڈیکل کے طالب علم ہیں ان کا مستقبل اس اسپتال سے وابستہ ہے آخر دو افراد کی لاپرواہی کی سزا ان سیکڑوں افراد کو کیوں دی جارہی ہے؟حکومت کو اپنی تحقیقات مکمل کرنا ہوں گی ہر حال میں نشوا کے مجرموں کو سزا بھی دینا ہوگی،ہر فرد نشوا کے والد کے دکھ میں بھی شریک ہے لیکن ہمیں درست اور غلط کو دیکھنا ہوگا۔حکومت کو ان ناتجربہ کار لوگوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا ہوگا جو اس شعبے میں موجود ہیں نشوا کے کیس کے بعد حکومت کو اس جانب بھی توجہ دینی ہوگی کے اس شعبے سمیت ہر شعبے کی تعلیم سے نقل کا خاتمہ کیا جائے تاکہ نااہل لوگ اس اہم شعبے کا حصہ ہی نہ بنیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں