70

وزيراعظم کےمعاون خصوصی شہزاد اکبر کی پریس کانفرنس

وزيراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ جج ویڈیو اسکینڈل کی اعلیٰ عدلیہ خود تحقیقات کرے، حکومت تحقیقات کرے گی تو اپوزیشن اعتراض کرے گی ۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ ویڈیو کو پیش کرنے والا شخص سزا یافتہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جج سے متعلق ویڈیو کا فارنزک ہونا چاہیے، عدلیہ اس معاملے کی تحقیقات کرے، ویڈیو کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کو ویڈیو کی تحقیقات کرنی چاہیے۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ حکومت نے ویڈیو کی تحقیقات کی تو ہم پر الزامات لگیں گے، انہوں نے دعوی کیا کہ شریف خاندان کے خلاف مزید دستاویزی ثبوت سامنے لے کرآئیں گے۔

وزيراعظم کے معاون خصوصی نے پریس کانفرنس میں سوال اٹھایا کہ سپریم کورٹ پر حملہ کس نے کیا تھا، وہ کون لوگ تھے جو جج کو فون پر فیصلے لکھوا رہے تھے، سپریم کورٹ نے ان لوگوں کو سیسلین مافیا ڈکلیر کیا۔

پریس کانفرنس میں موجود وفاقی وزیر مراد سعید نے کہا کہ نواز شریف کا بھی ہاتھ صاف ہے، زرداری کا بھی ہاتھ صاف ہے اور ملک کا خزانہ بھی صاف ہے، یہ کتنی عجیب بات ہے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو لوٹنے والوں کا احتساب ہوگا۔

مراد سعید نے الزام لگایا کہ احسن اقبال کے بھائی کو پنجاب ہارٹی کلچرٹاسک فورس کا چیئرمین لگادیا گیا، شہبازشریف نے کمال مصطفیٰ کو پراجیکٹ دیا، جو احسن اقبال کا بھائی ہے۔

مراد سعید نے کہاکہ شہبازشریف نے 2008 میں کمال مصطفیٰ کو چیف منسٹر ٹاسک فورس کا چیئرمین تعینات کیا، اس کے بعد کمال مصطفیٰ کو ٹھیکے دئیے گئے، ہم نے نیب کو یہ کیس بھیج دیا ہے اور اس نے ٹیک اپ کر لیا ہے۔

مراد سعید نے کہاکہ نوازشریف جیل گئے تو وزیر اعظم کی گاڑی ان کی صاحبزادی استعمال کرتی رہی، وزیراعظم کی گاڑی رائیونڈ سے برآمد کی گئی، شریف خاندان کو مفت خوری کی عادت پڑگئی ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں