116

وسطی ایشیائی ریاست کرغزستان

بادشاہ خان

 روس کے تسلط سے آزاد ہونے والی کئی وسطی ایشیائی ریاستوں میں ایک خوبصورت ریاست کرغزستان ہے، اپنے سفر کے بارے میں لکھنے سے قبل قارئین کرغزستان کے بارے میں مختصر آپ کو آگا کرنا چاہونگا،کرغزستان کی اکثریتی آبادی مسلمان ہے،اور ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہے، برف پوش پہاڑوں والی یہ ریاست وسطی ایشیا میں واقع ہے اور اِس کی سرحدیں قازقستان، ازبکستان، تاجکستان اور چین سے ملی ہوئی ہیں۔ ملک کا 90 فیصد حصہ پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ تیان شان کے پہاڑی سلسلے کی سب سے اُونچی چوٹی بھی یہاں واقع ہے، جو سطح سمندر سے 7439 میٹر (24ہزار 406 فٹ)بلند ہے۔کرغزستان کا تقریباً 4 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ پوری دُنیا میں اخروٹ کے جو بڑے بڑے قدرتی جنگلات پائے جاتے ہیں، اُن میں سے ایک کرغزستان میں ہے۔اس کے علاوہ دنیا کی دوسر ی بڑی نمکین پانی کی جھیل اسیک کول بھی کرغزستان میں واقع ہے،اسیک کول مشرقی کرغزستان میں شمالی کوہ تیان شان میں واقع ایک جھیل ہے۔ حالانکہ یہ برف سے ڈھکے پہاڑوں کے درمیان واقع ہے لیکن اس کے باوجود یہ کبھی بھی نہیں جمتی۔ اس لیے اس کا نام کرغز زبان میں ‘اسیک کول’ ہے جس کا مطلب ”گرم جھیل” ہے۔ یہ جھیل رامسر کنونشن کے تحت حیاتیاتی تنوع کے حساب سے عالمی سطح پر ایک اہم مقام شمار کی جاتی ہے۔اس جھیل کی لمبائی 182 کلومیٹر اور چوڑائی 60 کلومیٹر تک ہے۔ جھیل 6236 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس طرح یہ جھیل ٹیٹیکاکا/تیتی کاکا کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی پہاڑی جھیل ہے۔ یہ 1606 میٹر کی بلندی پر واقع ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ گہرائی 668 میٹر اور اوسط گہرائی 270 میٹر ہے۔ قریبی پہاڑوں کے کئی چشمے، بشمول گرم چشمے اور پگھلی ہوئی برف سے اسے پانی ملتا ہے۔ جنوبی ساحلوں پر تیان شان کے خوبصورت پہاڑی سلسلے کی اونچی نیچی چوٹیاں اس جھیل کو انتہائی حسین منظر عطا کرتی ہیں۔ جھیل کا پانی تھوڑا سا نمکین ہے۔ اس کے پانی میں سالانہ 5 سینٹی میٹر کے حساب سے کمی واقع ہو رہی ہے۔سوویت دور میں یہ ایک مشہور سیاحتی مقام تھی اور اس کے شمالی ساحلوں پر کئی اقامت گاہیں واقع تھیں۔ سوویت اتحاد کے خاتمے کے بعد یہاں کی اقامت گاہوں کی صنعت پر کڑا وقت آیا تاہم اب سیاحوں کی دوبارہ آمد کے باعث یہ علاقہ ایک مرتبہ پھر سیاحت کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
کئی بارسنا تھا کہ کرغزستان کے لوگ انتہائی مہمان نوازی اور دوسروں کی عزت کرنے کے لیے مشہور ہیں۔اور اس کا مشاہدہ خود ہم نے کیا، کرغزستانی بڑوں کو بہت احترام سے مخاطب کرتے ہیں، سفر کے دوران اُنہیں اپنی سیٹ دے دیتے ہیں اور کھانے کی میز پر اُنہیں سب سے اہم جگہ پر بٹھاتے ہیں۔عام طور پر لوگوں کے تین یا اِس سے زیادہ بچے ہوتے ہیں۔ عموماً سب سے چھوٹا بیٹا شادی کے بعد بھی اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتا ہے اور بڑھاپے میں اُن کا خیال رکھتا ہے۔چھوٹی عمر سے ہی لڑکیوں کو گھر کے کام کاج اور ہنر سکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ اچھی بیویاں ثابت ہوں۔ 15 یا 16 سال کی عمر تک لڑکیاں گھر چلانے کے لیے پوری طرح تیار ہو جاتی ہیں۔ عام طور پر دُلہنوں کے لیے جہیز تیار کِیا جاتا ہے جس میں بستر، کپڑے اور ہاتھ کا بنا قالین شامل ہوتا ہے۔دُلہا پیسوں اور مویشیوں کی شکل میں دُلہن کی قیمت ادا کرتا ہے۔مختلف تقریبوں اور جنازوں پر ایک بھیڑ یا گھوڑے کو ذبح کِیا جاتا ہے۔ پھر اِس کے مختلف حصے کیے جاتے ہیں اور ہر شخص کے لیے ایک ایک حصہ رکھا جاتا ہے۔ یہ حصہ مہمانوں کی عمر اور مرتبے کے مطابق اُنہیں دیا جاتا ہے۔ اِس رواج میں بھی سب کے لیے احترام ظاہر کِیا جاتا ہے۔ پھر کرغزستان کا قومی کھانا بیش بارماک پیش کِیا جاتا ہے جسے ہاتھوں سے کھایا جاتا ہے۔
پاکستان سے وسطی ایشیائی ممالک کے لئے براہ راست کوئی پرواز نہیں ہے، صرف ازبکستان کے لئے ہفتے میں لاہور سے ازبکستان ائیر کی ایک فلائٹ جاتی ہے، جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے، ان قریبی وسطی ایشیائی ممالک میں جانے کے لئے آپ کوایک بار غیر ملکی ائیر لائنز کے ذریعے دوبئی ترکی،عمان جانا پڑتا ہے اور پھر وہاں سے ان ممالک آنے کے لئے پرواز لینی پڑتی ہے، جس سے دو گھنٹے کا قلیل سفر چھ سے بارہ گھنٹوں پر محیط ہوجاتا ہے، اور ہوائی سفر کے اخراجات بھی دوگنے ہوجاتے ہیں،اسلام آباد سے دوبئی اور تاجکستان ازبکستان کا سفر تقریبا برابر ہے،اسی طویل روٹ پر چند روز قبل ہم کرغزستان کے درالحکومت بشکیک پہنچے، بشکیک کے چھوٹے سے ائیرپورٹ پر جدید نظام کے ساتھ ساتھ مسافروں کے لئے پندرہ سے زیادہ کاونٹرز پر امیگریشن کا عملہ موجود تھا،جو کہ انتہائی تیزی سے کام کررہا تھا،کاونٹر پر پہنچنے پر صرف ایک منٹ میں جی ہاں صرف ایک منٹ میں امیگریشن کے عمل گذرنے کے بعد جیسے ہی سامان اٹھانے لاونج میں پہنچے تو ہمسفر شفیق بھائی نے کہا کہ سامان پتہ نہیں کتنی دیر میں آئے،قارئین آپ یقین نہیں کرینگے،کہ صرف تین سے پانچ منٹ میں سامان سمیت ہم ائیرپورٹ سے باہر گاڑی میں بیٹھ چکے تھے،سفر کی تھکاوٹ ختم ہوگئی، اور دوسری جانب ہمارے ائیرپورٹس پر مسافروں کے ساتھ کیا ہوتا ہے، اس کی تفصیلات پھر کبھی،
بشکیک ائیرپورٹ شہر سے باہر پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے،۔صبح کا خوب صورت منظر اور ٹھنڈی ہوا کے ساتھ سڑک کے کنارے درختوں کے قطارنے پہلا تاثر اچھا دیا، دیکھ ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ شائد یہ اسی شاہراہ پر لگائے گئے ہیں، مگر جیسے جیسے شہر میں داخل ہوتے گئے تو ہر طرف درختوں کی بہتاب نے ثابت کردیا کہ ان ممالک میں درخت کو کیا اہمیت حاصل ہے، معلوم ہوا کہ یہاں درخت کاٹنے کا تصور نہیں ہے، اور درخت کاٹنے پر سخت سزا دی جاتی ہے،اور دوسری جانب ہمارے ہاں اس حوالے سے کوئی آگاہی مہم نہ ہونے کے برابر ہے، صبح کے پانچ بجے میونسپل کے ملازمین صفائی کا کام جاری رکھے نظر آئے،بشکیک شہر کے ایک جانب بلند وبالا پہاڑ ہیں تو دوسری جانب میدانی سلسلہ،لوگ محنتی اور اول صبح کاموں پر جانے والے شام پانچ بجے کے بعد اکثر بازار بند ہوجاتے ہیں اور شام آٹھ بجے کے بعد ہو کا عالم ہوتا ہے،اس بات کا اندازہ ہمیں صرف چند روز میں ہوگیا،خیر سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے ندیم بھائی نے راستہ بھر ہماری رہنمائی کی ندیم بھائی عرصہ دارز سے بسلسلہ روزگار کرغزستان میں رہائش پذیر ہیں،اور مقامی زبان کرغزروانی سے بولتے ہیں، انھوں نے بتایا کہ اس وقت تقریبا چھبیس سو پاکستانی طلبہ حصول تعلیم کے لئے کرغزستان کی مختلف یونی ورسٹیوں میں موجود ہیں،اس کے علاوہ پاکستانی کاروبار کے لئے بڑی تعداد میں وسطی ایشیائی ممالک کا رخ کررہے ہیں،انھوں نے بتایا کہ گذشتہ ماہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں اسی شہر میں شرکت کی تھی،اور سمٹ کے دوران الگ سے کرغزستان کے صدر و دیگر حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں کئی ایم او یوز پر دستخط ہوئے، وزیراعظم عمران خان اور کرغز صدروونبے شریپوویچ نے پاکستان اور کرغزستان کے درمیان زمینی اور فضائی روابط کو بہتر بنانے پراتفاق کیاتھا۔وزیر اعظم عمران خان نے کرغزستان کے صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی تھی،جس سے مزید تعلقات میں بہتری کی امیدہے۔ایک بات اور سفر کرغزستان میں ہمارے میزبان سردار علی اور یوسف خان نے ہمیں ہر خاص وعام جگہ پر جانے اور پہنچانے میں آسانیاں فراہم کیں، یوسف خان تقریبا پچیس برس قبل پاکستان سے یہاں آئے تھے،اوراب کرغزستان میں مقامی بن چکے ہیں، ان کی اہلیہ کا تعلق کرغز سے ہے، اس وجہ ان کے تعلقات نے ہمیں سفر میں کئی جگہ آسانی فراہم کی۔،

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں