82

کرپشن ،نیب، میڈیا

بادشاہ خان
سکوت سمندر کرپشن ،نیب، میڈیا

وقت آگیا ہے کہ کرپشن میں ملوث سیاست دانوں،و دیگر افراد کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے ، اگر اب ایسا نہ کیا گیا تو معاشرے کے ساتھ ساتھ قوم کا مستقبل بھی اندھیروں میں ڈوب جائے گا، احتجاج دھمیکوں سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں ،سیاست دان ایک دوسرے کو بچانے کے لئے بیانات ، جلوس جلسے ملین مارچ کرینگے، اگر نیب کا ادارہ یہ کام نہیں کرے گا تو پھر کونسا ادارہ کرے گا ؟ اور کب کرے گا؟، کیا سیاست دان مقدس گائے ہیں ؟ہر ایک کا احتساب اور غیر جانبدار ہونا چا ہی ہے ،تاکہ معاشرے میں سرائیت کر جانے والے اس ناسور کو کاٹ پھینکا جاسکے،دنیا کی کوئی تہذیب،ملک نہیں جو یہ دعویٰ کر سکے کہ وہ کرپشن کی لعنت سے مکمل طور پر پاک و محفوظ رہی ہو۔البتہ یہ ممکن ہے کہ پہلے اس کا دائرہ محدود ہوا کرتا تھا اور یہ زہر اپنی مرضی سے لوگ پیا کرتے تھے لیکن آج ہر کس نا کس کو مجبورکردیا گیا ہے کہ وہ اس زہر کا پیالہ اپنے منہ سے لگائے۔ ملک بھر میں کرپشن کے خلاف عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے ،مگر یہاں مسئلہ ایک شخصیت کا نہیں ہے پورے معاشرے کا ہے ،لوگ اس نظام سے تنگ آچکے ہیں اور وہ تبدیلی چاہتے ہیں ،مگر تبدیلی نظام کے اندر سے کیسے آئے گی؟ خود بڑا سوال ہے ،تبدیلی جب بھی آئی گی اور اس میں بنیادی کردار نوجوان طبقے کا ہوگا،بے روزگاری ،مہنگائی سب کے پس منظر میں کرپشن کا عنصر موجود ہے اس وقت کرپشن کے خلاف لوگ سوچنے پر مجبورہیں ۔عوام کے اندر بیداری پیدا ہو رہی ہے ۔ ناانصافی کا خاتمہ ہو اور عدل قائم ہو۔ظالم ،جابر اور ڈکٹیٹر حکمرانوں نے جو عام انسانوں کو غلامی کے طوق پہنا رکھے ہیں وہ گلوں سے اتریں اور انسان آزادہو جائیں۔آزادی ملک کی نہیں بلکہ انسانوں کے حقوق کی آزادی۔یعنی وہ اپنے بنیادی حقوق حاصل کر سکیں،حکومتیں ان کے حقوق ادا کریں اور ادا کرنے کا نظام قائم کریں ،یہ نظام ایسا ہو جہاں شفافیت ہو، ایمانداری ہو،احساس ذمہ داری ہواوران لوگوں پر گرفت ہو جو اس کام میں رکاوٹ بنتے ہیں،اور یہ سب کام زبانی نہیں بلکہ عملی ہونے چاہیں۔ کرپشن کا مسئلہ کسی خاص ملک کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ مسئلہ ترقی پذیر قوموں ودیگر ملکوں میں بھی اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نہ صرف پاکستان میں بلکہ نیو یارک کی وال سٹریٹ پر بھی انسانوں کے ساتھ ان ہی جیسے مٹھی بھر انسانوں کی جانب سے جب غیر جانب دارانہ رویہ اختیار کیا گیا اور لوگوں کے حقوق جب سلب کیے گئے تو فضا میں occupy wall streeکے نعرے گونج اٹھے ۔
بدعنوانی (کرپشن)کی تشریح بہت ہی طویل ہے ،کوئی بھی کام ہو خصوصاً سرکاری اور بعض مواقع پر غیر سرکاری اداروں میں بیٹھے ذمہ دار اس کام کو کرنے سے قبل رشوت لیتے ہیں۔کاروبار میں بدعنوانی،بھتہ خوری،سرکاری رقوم میں خرد برد۔اس سے بھی آگے بڑھیے تو تعلیمی اداروں میں ایڈمیشن کے وقت “ڈونیشن ” کے نا م پرلی جانے والی رشوت، سرکاری اسپتالوں میں دواؤں اور دیگر اشیاء میں خرابی و چھیڑ چھاڑ اور قانونی چارہ جوئی کرنے والے ذمہ داران اور ان کے اداروں میں کھلے طور پر لی جانے والی رشوت ۔معلوم ہوتا ہے کرپشن ایک ناسور ہے جو چہار جانب رچ بس چکا ہے۔ جس سے چھٹکارا پانا اور جس کو دور کرنا مشکل ہی نہیں مشکل ترین ہو گیا ہے۔مہذب معاشرے میں رشوت قابل قبول نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ وہ ناسور ہے جو اخلاقی، ثقافتی،سیاسی اور قانونی نظاموں کا تانا بانا بکھیر دیتا ہے اور پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے کر نظام وقت کی تباہی کا باعث بنتا ہے۔وطن عزیز پاکستان میں کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی آواز کو کمزور سمجھ رہے ہیں۔مگر ایسا نہیں ہے کرپشن جس نے پاکستان کو اندر سے کھوکھلا کردیاہے ایک اہم ایشو اور سنگین مسئلہ ہے ،ہاں یہ بات بھی کسی حد تک ٹھیک ہے اس ایشو کو اٹھانے والے سیاست دانوں کو اپنے گریبان میں ضرور جھانک لینا چاہیے۔ ایک پارٹی کی کھل کر مخالفت اور ایک “خاص”کی حمایت۔ ۔اور سب سے بڑھ کر میڈیا کا مشتبہ کردار۔ یہ تمام واقعات اس جانب متوجہ کرتے ہیں کہ کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والے خودہی کرپٹ ہیں ۔پھر جب کہ برائی کو ختم کرنے والے خود اسی دلدل میں دھنسے ہوئے ہوں تو کیونکر وہ اپنے جسم اور پارٹی کو سب سے پہلے پاک و صاف نہیں کرتے؟کہ وہ خود برائی کرتے رہیں اوردوسروں کو بھلائی کی ترغیب دیں؟ کیا وجہ ہے کہ ان کا ضمیر ان کو نہیں جھنجوڑتا اور کیونکر وہ دوسروں کو نیکی کی نصیحت کرنے اپنے گھروں سے نکل پڑتے ہیں؟ ۔
سب سے زیادہ ذمہ داری میڈیاکی ہے کہ وہ حقائق کو عوام کے سامنے رکھ دے۔لیکن افسوس کہ آج میڈیاسرمایہ داروں ،ملٹی نیشنل کمپنیز اور سیاست دانوں کے ہاتھ بک چکی ہے۔ایک جانب وہ کرپٹ لوگ ہیں جو کرپشن کے نام پر اپنی سیاست چمکانے میں مصروفِ عمل ہیں دوسری جانب مفاد پرستوں نے میڈیا کی تصویر مسخ کر کے رکھ دی ہے یہی وجہ ہے کہ دن رات خصوصاً الیکٹرانک میڈیا خاص نظریہ و مقصد سے وابستہ افراد کے کوریج میں مصروفِ عمل ہے۔نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میڈیا میں فاشسٹ اور لبرل منفی سوچ رکھنے والوں کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے یا دوسرے لفظوں میں سچائی کے علمبرداورں کو یہ لوگ خریدنے میں بہت تیزی کے ساتھ کامیاب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔توجہ طلب بات کہ جب حقیقت کی عکاسی کرنے والوں کے بازار لگے ہوں اور ان کی خرید و فروخت جاری ہو تو کیسے ممکن ہے کہ وہ جو میڈیا میں پیش کریں، اس میں جانب دارانہ رویہ وہ اختیار نہ کرتے ہوں گے؟پھر یہ بھی کہ جانب داری چاہے وہ کسی بھی قسم کی ہو ایک برائی ہے جو انسان کو سچ کہنے ،لکھنے اور بیان کرنے سے روک دیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج میڈیا کی بیان کی جانے والی رپورٹوں میں جانب داری کی بو محسوس کی جاتی ہے اور یہ طرز عمل خود کرپشن کے دائرے میں آتا ہے پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کے پاس اب صرف ایک موقع ہے کہ وہ اس کرپٹ مافیا کو جڑ سے اٹھا پھینکیں اور اس کی راہ میں کسی روکاٹ اور دھرنے سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ، کیونکہ یہ مسئلہ ہے قوم کے مستقبل کا اور خود پی ٹی آئی کی سیاسی مستقبل کا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ کرپشن میں ملوث افراد و سیاست دانوں پر مضبوط ہاتھ ڈالا جاتا ہے ؟یا پھر یہ ایشو اور مسئلہ بھی مزید آگے منتقل ہوتا ہے ۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں