51

کیا کوئی ادارہ نہیں جو نیب کا آڈٹ کرے۔ سپریم کورٹ

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ (این آئی سی ایل) کرپشن کیس کی سماعت کی۔ جسٹس گلزاراحمد نے استفسار کیا کہ ملزم محسن حبیب کوگرفتار کیوں نہیں کیا گیا، اتنا بڑاکیس ہے اورمحسن حبیب آرام سے گھوم رہا ہے۔

ملزم کے وکیل نے بتایا کہ محسن حبیب لاہور میں ہیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ انہیں نیب نے طلب کیا تھا۔ جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیے کہ نیب نے ان کو چائے پلائی ہوگی اور کیک کھلائے ہونگے۔
نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم تھا کہ انکو گرفتار نہ کیا جائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم صرف دو دن کیلئے تھا۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ نیب کو آخر تکلیف اور پریشانی کیا ہے، نیب کیا کر رہا ہے، نیب کی ہر چیز میں گڑ بڑ ہے، نیب کا آنگن ہی ٹیڑھا ہے، بااثر افراد پر ہاتھ ڈالنے سے ڈرتے ہیں، کرپٹ لوگ ملک لوٹ کر کھا گئے کوئی ان پر ہاتھ نہیں ڈالتا، نیب سے اللہ ہی پوچھے گا، کیا کوئی ادارہ نہیں جو نیب کا آڈٹ کرے۔
عدالت نے اگلی سماعت پر نیب پراسیکوٹر جنرل اور محسن حبیب کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں